گو نواز گو

گو نواز گو نعروں کا اثر اب ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شیخ رشید کے ساتھ جو سلوک ملتان میں ہوا اور اس سے پہلے گجرانوالہ میں ن لیگ کے کارکنوں نے جو ردعمل ظاہر کیا اس نے ہر باشعور پاکستانی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے راہنما خوش ہیں کہ گو نواز گو ایک مقبول نعرہ بنتا جارہا ہے اور یہ ہر جگہ نواز شریف حکومت کا پیچھا کرے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب اس کے ردعمل کا ان دونوں جماعتوں کو بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ کیا پاکستان اس صورتحال کا متحمل ہو سکتا ہے ایک ایسے وقت جب بھارت کی جانب سے گزشتہ چند دنوں سے انتہائی جارحانہ رویے کا سامنا ہےاور بیرونی دنیا بھی پاکستان کو ایک بار پھر ناکام ریاست کے طور پر دیکھنا شروع ہو گئی ہے۔

پاکستانی عوام جائز طور پر ان سیاستدانوں اور جمہوریت سے بیزار ہونا شروع ہو گئی ہے جن کو ہم بہت امیدوں کا مرکز بنا کر اور مینڈیٹ دے کر ہم پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں کہ وہ وہاں جاکر عوام کی فلاح کے منصوبے شروع کریں گے اور ملکی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ لیکن جب یہ سیاستدان اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں تو اپنے سب نعرے بھول کر اپنے مفادات پورے کرنے میں لگ جاتے ہیں اور پھر ان کو نہ کسی اخلاقیات کی پروا ہوتی ہے نہ کسی احتساب کا ڈر۔ نہ انہیں کسی عوام کی پروا ہوتی ہے اور نہ اپنے عوام سے کئے ہوئے وعدوں کا خیال۔

پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے مخالف بھی اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتے کہ حالات کو ان نہج تک پہنچانے میں خود ن لیگ کا اپنا ہاتھ ہے۔ ایف آئی آر درج کرانا ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی عام شہری کسی بھی وقت محض ایک سادہ کاغذ پر درخواست دے کر ای آئی آر درج کراسکتا ہے۔ لیکن حیران کن طریقے سے ن لیگ حکومت نے جس طرح ایک ایسے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جس کو ساری دنیا میں براہ راست دیکھا گیا اور جس میں چودہ قیمتی جانیں گئیں ۔ اگر یہ واقع کسی یورپی ملک میں ہوا ہوتا تو یقینی طور پیر پوری حکومت مستعفی ہوجاتی لیکن پاکستانی سیاستدانوں نے اپنی بے حسی اور سفاکی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ بجائے خود مستعفی ہونے کے ایف آئی آر درج کرانے میں بھی مجرمانہ تاخیر کی جس کا نتیجہ اب وہ گو نواز گو کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح عمران خان کا چودہ حلقے کھولنے کا مطالبہ کوئی ایسا نہ تھا جس میں یہ حکومت اتنا ٹائم ضائع کرتی۔ اگر یہ کام پہلے دن ہی کر لیا جاتا تو آج یہ سیاسی بحران نہ پیدا ہوتا۔

اب گو نواز گو کے نعروں کاردعمل ظاہر کر کے ن لیگ اپنی قبر خود کھود رہی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپوزیشن پارٹیاں حکومت پر تنقید کرتی ہیں اور یہی ایک ایسا چینل ہے جس کے ذریعے حکومتیں اپنی کارکردگی بہتر کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر حکومت تنقید برداشت کرنے کی بجائے اپنے مخالفین پر تشدد کرنا شروع کردے تو ملک بہت جلد خانہ جنگی کا شکا ر ہوجا تا ہے اور یہ صورتحال اب گو نواز گو کے نعروں کے ردعمل کی صورت میں ظاہر ہو گئی ہے۔ اگر یہ ردعمل بڑھنا شروع ہوگیا اور ہر پارٹی دوسری سیاسی پارٹی کے ساتھ یہ سلوک کرنا شروع ہوگئی تو اس کا انجام بہت بھیانک ہوگا اور شاید اسی وقت کو بھانپتے ہوئی بھارت نے کنٹرول لائن پر اپنی کاروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ کیا ہم اس وقت گو نواز گو اور گو خٹک گو کے نعروں کو چھوڑ کر ملکی دفاع کی خاطر متحد نہیں ہو سکتے؟

About Master Blog Writer

Master Blog Writer is the best platform for blog and article writers wishing to share the knowledge, ideas and information with like-minded people.

Check Also

Nashaistagi bhee or muslim dushmani bhee-Tanveer Qaisar Shahid

5 comments

  1. If you are going for finest contents like me, simply visit this web
    site every day as it provides quality contents,
    thanks

    Feel free to surf to my website :: garcinia cambogia free 14 day trial

  2. What’s up, its nice piece of writing concerning media print, we all understand media is a impressive source of data.

    My web site :: vitacost promo codes

  3. Who is the responsible of “NAZAK MORRE'” PPP and PML(N) both parties are in power from 30 years. if someone take stand against corruption and uncivilized MNA’S, pooor quality of justic in supreme court. “khadam e ala ” is involve thousands killings. Anyone can think police department is to serve people. Even out of country pakistani consulate behave very shameful. If you need to make a pasport from pakistani consulate you need to stay one night on road then may be you sucess to get renewal of passport if lucky enough. Before dharna and inqalab keya ” pakistan man doddh keee nehrain beh rahee theeen” that disturbed by dhrna? We always in doubt that nawaz sharif is priminister of pakistan or (india or ameria) we never fee that nora kashti is in fever of pakistan 🙂

  4. Agreed with you sir g but Gohar Jee also stating right …

  5. Sir, i agree, pr dharna and Inqlab are react of govt policies and killing. lekin es march ne (dharna and Inqlab) qoum k sha’our ko jitna be’dar kia kia ha, itna tu pechly 65 salo me ni howa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *